غزل
زیست لہروں کی بس روانی ہے
کچھ بھی دائم نہیں ہے فانی ہے
وقت ہے ہاتھ سے پھسلتی ریت
وقت بہتی ندی کا پانی ہے
خوش ہَوا ہے تِرے گلستاں کی
جنّتوں کی مہک سہانی ہے
چھیڑتی ہے جو دل کے تاروں کو
دل کے جذبات کی روانی ہے
یہ سفر زندگی کا سنگ تِرے
جیسے خوابیدہ سی کہانی ہے
ہر نئے دن نئی امنگ اُٹھے
یعنی پھر آمدِ جوانی ہے
ثمرین ندیم ثمر