MOJ E SUKHAN

زیست لہروں کی بس روانی ہے

غزل

زیست لہروں کی بس روانی ہے
کچھ بھی دائم نہیں ہے فانی ہے

وقت ہے ہاتھ سے پھسلتی ریت
وقت بہتی ندی کا پانی ہے

خوش ہَوا ہے تِرے گلستاں کی
جنّتوں کی مہک سہانی ہے

چھیڑتی ہے جو دل کے تاروں کو
دل کے جذبات کی روانی ہے

یہ سفر زندگی کا سنگ تِرے
جیسے خوابیدہ سی کہانی ہے

ہر نئے دن نئی امنگ اُٹھے
یعنی پھر آمدِ جوانی ہے

ثمرین ندیم ثمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم