MOJ E SUKHAN

زیست یوں غم سے ہم آغوش ہوئی جاتی ہے

غزل

زیست یوں غم سے ہم آغوش ہوئی جاتی ہے
عشرت رفتہ فراموش ہوئی جاتی ہے

اس نے اک بار پکارا تھا حریم دل سے
زندگانی ہمہ تن گوش ہوئی جاتی ہے

تم نہ اٹھو مرے پہلو سے خدارا دیکھو
کائنات آنکھوں سے روپوش ہوئی جاتی ہے

وہ ادھر مجھ سے خفا ہو کے اٹھے ہیں تو ادھر
نبض دل دیکھیے خاموش ہوئی جاتی ہے

کثرت غم ہے کہ تکمیل جنوں ہے سلمانؔ
یاد بھی ان کی فراموش ہوئی جاتی ہے

سلمان گیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم