MOJ E SUKHAN

سائے پگھل رہے تھے،

سائے پگھل رہے تھے،
ہم ساتھ چل رہے تھے۔

لمحے جدائیوں کے،
آنکھوں میں جل رہے تھے۔

تھیں منجمد نگاہیں،
آنسو نکل رہے تھے۔

سب کچھ وہی تھا لیکن،
رستے بدل رہے تھے۔

یادیں تھیں یا کہ نشتر،
سینے پہ چل رہے تھے۔

کیا کیا خیال تھے جو،
دل کو مَسل رہے تھے۔

"خالد” وہ جا رہا تھا،
ہم ہاتھ مل رہے تھے۔

خالد شریف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم