سائے پگھل رہے تھے،
ہم ساتھ چل رہے تھے۔
لمحے جدائیوں کے،
آنکھوں میں جل رہے تھے۔
تھیں منجمد نگاہیں،
آنسو نکل رہے تھے۔
سب کچھ وہی تھا لیکن،
رستے بدل رہے تھے۔
یادیں تھیں یا کہ نشتر،
سینے پہ چل رہے تھے۔
کیا کیا خیال تھے جو،
دل کو مَسل رہے تھے۔
"خالد” وہ جا رہا تھا،
ہم ہاتھ مل رہے تھے۔
خالد شریف