MOJ E SUKHAN

سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں

غزل

سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں
جو آپ چھپتا پھرتا ہے ہر سائبان میں

یہ چھوٹے چھوٹے شوق بھی اس کو روا نہیں
جس کو بڑا بنایا گیا خاندان میں

مجھ کو ہے آدمی سے توقع خلوص کی
سونا تلاش کرتا ہوں مٹی کی کان میں

قد سے نہیں بنائی ہے پہچان جست سے
یہ فرق ہے ہماری تمہاری اٹھان میں

مٹی میں ملنے والے ہیں کل اس کے چیتھڑے
اڑتی رہے پتنگ بھلے آسمان میں

چپ رہ سکے جو آدمی چپ کے مقام پر
یہ خامشی ہو زمرۂ فوق البیان میں

اب تک ہمیں خبر ہی نہیں تھی کمال ہے
نکلے ہیں ہم بھی آپ کے دل دادگان میں

فطرت سے کچے پکے تعلق کی بات کیا
مٹی کی باس تک نہیں پکے مکان میں

رحمان حفیظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم