MOJ E SUKHAN

ساتھ دریا کے ہم بھی جائیں کیا

غزل

ساتھ دریا کے ہم بھی جائیں کیا
زور لہروں کا آزمائیں کیا

پیڑ سارے اجڑ چکے کب کے
شور کرتی ہیں پھر ہوائیں کیا

کب وہ گزرے گی اس خرابے سے
فصل گل سے یہ پوچھ آئیں کیا

پھول باغوں میں جب نہیں کھلتے
پھول گملوں میں ہم کھلائیں کیا

رات جنگل کی شہر میں آئی
گھر چراغوں سے جگمگائیں کیا

جو خدا ہے کبھی تو سوچے وہ
ایک دنیا نئی بنائیں کیا

خوف کیسا ہے شام سے فکریؔ
آج اتریں گی پھر بلائیں کیا

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم