غزل
ساتھ کچھ دن گزارا کرنا تھا
مجھ سے گر یوں کنارہ کرنا تھا
جان تم پر نثار کر دیتے
انکھ سے بس اشارہ کرنا تھا
مل ہی جاتے خوشی کے چند لمحے
تم نے یہ کب گوارا کرنا تھا
دل کی کشتی بچانے کو اخر
تنکے ہی کو سہارا کرنا تھا
میری کل کائنات تھا تو ہی
میں نے تیرا نظارہ کرنا تھا
غمزدہ روبی تھی مگر تم کو
کچھ مداوا خدارا کرنا تھا
روبینہ راجپوت