MOJ E SUKHAN

ساتھ کچھ دن گزارا کرنا تھا

غزل

ساتھ کچھ دن گزارا کرنا تھا
مجھ سے گر یوں کنارہ کرنا تھا

جان تم پر نثار کر دیتے
انکھ سے بس اشارہ کرنا تھا

 مل ہی جاتے خوشی کے چند لمحے
تم نے یہ کب گوارا کرنا تھا

دل کی کشتی بچانے کو اخر
تنکے ہی کو سہارا کرنا تھا

میری کل کائنات تھا تو ہی
میں نے تیرا نظارہ کرنا تھا

غمزدہ روبی تھی مگر تم کو
کچھ مداوا خدارا کرنا تھا

روبینہ راجپوت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم