MOJ E SUKHAN

ساحل نہ کوئی اب کے مری دسترس میں تھا

غزل

ساحل نہ کوئی اب کے مری دسترس میں تھا
طوفان کون سا مری موج نفس میں تھا

مجبوریوں کے ڈھونڈھ کے لایا تھا وہ جواز
مجھ سے بچھڑتے وقت مگر پیش و پس میں تھا

لو دے رہا تھا مجھ میں اندھیروں کے باوجود
شاید کوئی شرار جو شمع نفس میں تھا

کس طرح دیکھتا کوئی اندر کی روشنی
ہر شخص خواہشات کے اندھے قفس میں تھا

آنگن کی چھاؤں سے کہیں باہر کی دھوپ تک
بس اتنا فاصلہ ہی تو عشق و ہوس میں تھا

عابدہ کرامت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم