MOJ E SUKHAN

سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی

غزل

سارے منظر دل کش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی
جیون کی ہر شام ہمیں تب ایک کہانی لگتی تھی

جس کا چاند سا چہرا تھا اور زلف سنہری بادل سی
مست ہوا کا آنچل تھامے ایک دوانی لگتی تھی

اپنے خواب نئے لگتے تھے اور پھر ان کے آگے سب
دنیا اور زمانے کی ہر بات پرانی لگتی تھی

پیار کے موسم کی خوشبو سے غنچہ غنچہ مہکا تھا
مہکی مہکی دنیا ساری رات کی رانی لگتی تھی

لمحوں کے رنگین غبارے ہاتھ سے چھوٹے جاتے تھے
موسم دکھ کا درد کی رت سب آنی جانی لگتی تھی

قوس قزح کی بارش میں یہ جذبوں کی منہ زور ہوا
موج اڑاتے بل کھاتے دریا کی روانی لگتی تھی

اب دیکھیں تو دور کہیں پر یادوں کی پھلواری میں
رنگوں سے بھرپور فضا تھی جو لافانی لگتی تھی

فرح اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم