MOJ E SUKHAN

سارے وعدے وہی گھڑے ہوئے ہیں

سارے وعدے وہی گھڑے ہوئے ہیں
جن کو سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں

بزم سے اس لیئے چلے آئے
ایک سے ایک واں پڑے ہوئے ہیں

ہم کو مجنوں بنا کے چھوڑیں گے
وہ اِسی بات پر اڑے ہوئے ہیں

ہم نے ہمت مگر نہیں ہاری
امتحاں زیست میں کڑے ہوئے ہیں

چارسو مشکلات ہیں کتنی
اور ہم درمیاں کھڑے ہوئے ہیں

سر پہ دستارِ ذمہ داری ہے
ریگِ طوفان میں گڑے ہوئے ہیں

خواب مت چھینیے کسی کے ضیاء
ان میں دُرِ یقیں جَڑے ہوئے ہیں

ضیاء زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم