MOJ E SUKHAN

سارے پتھر اور آئینے ایک سے لگتے ہیں

سارے پتھر اور آئینے ایک سے لگتے ہیں
ایک سی حالت رکھنے والے ایک سے لگتے ہیں

یوں لگتا ہے جیسے پھر کچھ ہونے والا ہے
کچھ ہونے سے پہلے لمحے ایک سے لگتے ہیں

پہلے کوئی راہ زیادہ لمبی لگتی تھی
اب تو گھر کے سب ہی رستے ایک سے لگتے ہیں

کیسے پہچانوں میں ان میں کون سے ہیں مرے لوگ
رات کی آندھی میں سب چہرے ایک سے لگتے ہیں

کسی کسی کو پیاس بجھانے کا گن آتا ہے
ورنہ یہ مٹی کے کوزے ایک سے لگتے ہیں

اپنی کوکھ کی گرمی میں ہوں یا اس سے کچھ دور
ماں کو اپنے سارے بچے ایک سے لگتے ہیں

شاہدہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم