MOJ E SUKHAN

ساز آہستہ ذرا گردش جام آہستہ

غزل

ساز آہستہ ذرا گردش جام آہستہ
جانے کیا آئے نگاہوں کا پیام آہستہ

چاند اترا کہ اتر آئے ستارے دل میں
خواب میں ہونٹوں پہ آیا ترا نام آہستہ

کوئے جاناں میں قدم پڑتے ہیں ہلکے ہلکے
آشیانے کی طرف طائر بام آہستہ

ان کے پہلو کے مہکتے ہوئے شاداں جھونکے
یوں چلے جیسے شرابی کا خرام آہستہ

اور بھی بیٹھے ہیں اے دل ذرا آہستہ دھڑک
بزم ہے پہلو بہ پہلو ہے کلام آہستہ

یہ تمنا ہے کہ اڑتی ہوئی منزل کا غبار
صبح کے پردے میں یاد آ گئی شام آہستہ

مخدوم محی الدین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم