ساز ہو جیسے کوئی مضراب کی تحویل میں
لفظ رہتے ہیں سدا اعراب کی تحویل میں
اور کیا اِس سے بھلا اُمید رکھے گا کوئی
خواب ہی دیکھے گا جو ہے خواب کی تحویل میں
تشنہ لب پہنچے تھے تشنہ لب ہی واپس آئے ہیں
صرف مٹی ہی ملی مہتاب کی تحویل میں
وہ بھلا سمجھے گا کیا آبِ رواں کی لذتیں
عمر جس نے کاٹ دی تالاب کی تحویل میں
کل تلک تو جانور رہتے تھے اُس کی قید میں
آجکل انسان ہیں قصّاب کی تحویل میں
جس نے اپنا گھر گِرا کر راستہ اُس کو دیا
آ گیا وہ شخص بھی سیلاب کی تحویل میں
کل کا کیا ہو گا خبر اِس کی نہیں ثاقبؔ مگر
آج کا اِنسان ہے اسباب کی تحویل میں
سہیل ثاقب