MOJ E SUKHAN

سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے

سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے

پھر طبیعت میں مری کیوں نہ روانی آئے

۔

کوئی پیاسا بھی کبھی اس کی طرف رخ نہ کرے

کسی دریا کو اگر پیاس بجھانی آئے

۔

میں نے حسرت سے نظر بھر کے اسے دیکھ لیا

جب سمجھ میں نہ محبت کے معانی آئے

۔

اس کی خوشبو سے کبھی میرا بھی آنگن مہکے

میرے گھر میں بھی کبھی رات کی رانی آئے

۔

زندگی بھر مجھے اس بات کی حسرت ہی رہی

دن گزاروں تو کوئی رات سہانی آئے

۔

زہر بھی ہو تو وہ تریاق سمجھ کر پی لے

کسی پیاسے کے اگر سامنے پانی آئے

۔

عین ممکن ہے کوئی ٹوٹ کے چاہے ساقیؔ

کبھی ایک بار پلٹ کر تو جوانی آئے

ساقی امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم