MOJ E SUKHAN

سامنے جی سنبھال کر رکھنا​

سامنے جی سنبھال کر رکھنا​
پھر وہی اپنا حال کر رکھنا​

​آ گئے ہو تو اِس خرابے میں​
اب قدم دیکھ بھال کر رکھنا​

​شام ہی سے برس رہی ہے رات​
رنگ اپنے سنبھال کر رکھنا​

​عشق کارِ پیمبرانہ ہے​
جس کو چھُونا مثال کر رکھنا​

​کشت کرنا محبتیں اور پھر ​
خود اُسے پائمال کر رکھنا​

​روز جانا اُداس گلیوں میں​
روز خود کو نڈھال کر رکھنا​

​اس کو آتا ہے موجِ مے کی طرح​
ساغرِ لب اُچھال کر رکھنا​

​سخت مشکل ہے آئینوں سے رساؔ​
واہموں کو نکال کر رکھنا​

​رسا چغتائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم