MOJ E SUKHAN

سانحہ آج کا یہ کیا کم ہے

غزل

سانحہ آج کا یہ کیا کم ہے
آدمی آدمی سے برہم ہے

تیرگی بھی ہنسی اڑاتی ہے
لو چراغوں کی کتنی مدھم ہے

راہ ہستی کہیں نہ جھلسا دے
دھوپ زائد ہے چاندنی کم ہے

رکھئے لہجے میں پیار کی شبنم
زخم دل کا یہی تو مرہم ہے

آدمی پھر بھی تھک ہی جاتا ہے
راستہ گرچہ زیست کا کم ہے

تلخ کیوں بن گئی زباں تیری
دل دکھانے کو آئنہ کم ہے

چھوڑ کر تو ابھی گیا بھی نہیں
شہر دل میں ابھی سے ماتم ہے

ہاتف عارفی فتح پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم