MOJ E SUKHAN

سانسوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں چھپا لوں گا

سانسوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں چھپا لوں گا
جب چاہوں تمہیں دیکھوں آئینہ بنا لوں گا

یادوں سے کہو میری بالیں سے چلی جائیں
اب اے شب تنہائی آرام ذرا لوں گا

رنجش سے جدائی تک کیا سانحہ گزرا ہے
کیا کیا مجھے دعویٰ تھا جب چاہوں منا لوں گا

تصویر خیالی ہے ہر آنکھ سوالی ہے
دنیا مجھے کیا دے گی دنیا سے میں کیا لوں گا

کب لوٹ کے آؤ گے اصرار نہیں کرتا
اتنا مرے بس میں ہے میں عمر گھٹا لوں گا

کیا تہمتیں دنیا نے اے شاذؔ اٹھائی ہیں
اک تہمت ہستی تھی سوچا تھا اٹھا لوں گا

شاذ تمکنت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم