MOJ E SUKHAN

سانس میری یہ آخری تو نہیں

غزل

سانس میری یہ آخری تو نہیں
ساتھ تیرے ملی ہوئی تو نہیں

جب تلک ہے اسے گزاروں گا
زندگی تیری دی ہوئی تو نہیں

جو سہولت بنی ہے تیرے لیے
وہ سہولت بنی ہوئی تو نہیں

اپنا ہونا گنوانا پڑتا ہے
سہل اتنی بھی سادگی تو نہیں

چھوڑ آئے ہو جو بھری دنیا
پھر سے تم کو پکارتی تو نہیں

اے مرے دل فریب کیا تجھ کو
پھر سے امید شام کی تو نہیں

دل میں چنگاریاں سی جلتی ہیں
یہ محبت بھی آخری تو نہیں

ساری چھٹیوں میں تجھ کو یاد کیا
عشق ہے تجھ سے نوکری تو نہیں

نجمؔ کیوں پاگلوں سے پھرتے ہو
آئنے پر نظر پڑی تو نہیں

جی اے نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم