MOJ E SUKHAN

سانس کی مہلت کیا کر لے گی

غزل

سانس کی مہلت کیا کر لے گی
اب یہ سہولت کیا کر لے گی

بے بس کر کے رکھ دے گی نا
اور محبت کیا کر لے گی

کیا کر لے گا چارہ گر بھی
درد کی شدت کیا کر لے گی

ایک جہنم کاٹ لیا ہے
اب یہ قیامت کیا کر لے گی

میں ہی اپنے ساتھ نہیں جب
اس کی رفاقت کیا کر لے گی

میرا آنگن صحرا جیسا
دشت کی وحشت کیا کر لے گی

سیما غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم