MOJ E SUKHAN

سانولی دھوپ سرمئی موسم

غزل

سانولی دھوپ سرمئی موسم
پھر وہی ہم ہیں پھر وہی موسم

خیر ہو سائبان گم گشتہ
جھیلنے پڑ گئے کئی موسم

داستان تضاد ہے گویا
شہر خوباں سمندری موسم

ہم نے اپنی بیاض میں لکھے
دل پہ بیتے ہوئے سبھی موسم

اک تعلق ہے عارضی یعنی
موسم گل ہے عارضی موسم

دل فگاروں کو کون سمجھائے
لوٹتے کب ہیں مخملی موسم

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم