غزل
سبھی قصہ کہانی کا برا انجام ہوتا ہے
محبت چھوٹ جائے تو محبت نام ہوتا ہے
زمانے بھر کی رسوائی اٹھا لیتا ہے کندھے پر
بتاؤ اس طرح بھی دل کہیں بدنام ہوتا ہے
وہ میرا حال کیا جانے ہے میرا حال جانے کیا
میں بالکل مطمئن ہوں یہ محض الزام ہوتا ہے
محبت پوچھ کے تو کی نہیں جاتی زمانے میں
خطا جو دل یہ کر بیٹھے تماشا عام ہوتا ہے
محبت پا کے پتھر دل اگر بدلا نہیں تیرا
تو پھر اس بے مروت کا تو بے حس نام ہوتا ہے
عمود ابرار احمد