MOJ E SUKHAN

سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھا

سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھا
بے گھری نے مرا ہی گھر دیکھا

بند آنکھوں سے دیکھ لی دنیا
ہم نے کیا کچھ نہ دیکھ کر دیکھا

کہیں موج نمو رکی تو نہیں
شاخ سے پھول توڑ کر دیکھا

خود بھی تصویر بن گئی نظریں
ایک صورت کو اس قدر دیکھا

ہم نے اس نے ہزار شیوہ کو
کتنی نظروں سے اک نظر دیکھا

اب نمو پائیں گے دلوں کے زخم
ہم نے اک پھول شاخ پر دیکھا

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم