MOJ E SUKHAN

سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھا

سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھا
کس درجہ کامیاب فریب مجاز تھا

مثل مہہ دو ہفتہ وہی سرفراز تھا
جس کی جبین شوق پہ داغ نیاز تھا

پوچھو نہ حال کشمکش یاس و آرزو
وہ بھی عجیب مرحلۂ جانگداز تھا

جب تک حقیقتوں سے مرا دل تھا بے خبر
بیچارہ مبتلائے غم امتیاز تھا

جھونکا ہوائے سرو کا رندوں کے واسطے
خمخانۂ بہار سے حکم جواز تھا

اہل جہاں کے کفر و توہم کا کیا علاج
آئینہ کہہ رہا ہے کہ آئینہ ساز تھا

مضمر تھے میری ذات میں اسرار کائنات
میں آپ راز آپ ہی خود شرح راز تھا

آئیں پسند کیا اسے دنیا کی راحتیں
جو لذت آشنائے ستم ہائے ناز تھا

خلقت سمجھ رہی تھی جسے اضطراب دل
پنہاں اسی میں ہستی عاشق کا راز تھا

اچھا ہوا ہمیشہ کو چپ ہو گیا رواںؔ
اک اک نفس غریب کا ہستی گداز تھا

جگت موہن لال رواں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم