MOJ E SUKHAN
No Record Found
سجے ہوئے بام و در سے آگے کی سوچتا ہوںمیں گھر بنا کر بھی گھر سے آگے کی سوچتا ہوں
کہیں اندھیرے میں جا بسوں گا چراغ بن کرمیں تیرے شمس و قمر سے آگے کی سوچتا ہوں
تجھے سمندر سے کچھ نہیں اور لینا دینامگر میں لعل و گہر سے آگے کی سوچتا ہوں
شمشیر حیدر
ایک اک لمحہ گزارا جا رہا ہے ہوش میں
مطافِ کعبہ اقدس میں نعتِ مصطفےٰ مانگوں
نہیں آساں کسی کے واسطے تخمینہ میرا
لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے
گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہے
اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر
صبح فراق الاماں وصل کی شام الاماں
کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہے
غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے