MOJ E SUKHAN

سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا

غزل

نصرت فتح علی خان کی آواز نے غزل کو چار چاند لگا دیے

سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگا
اب انتظار کے ماروں کا حال کیا ہوگا

تری نگاہ نے ظالم کبھی ہے یہ سوچا
تری نگاہ کے ماروں کا حال کیا ہوگا

مقابلہ ہے ترے حسن کا بہاروں سے
نہ جانے آج بہاروں کا حال کیا ہوگا

نقاب ان کا الٹنا تو چاہتا ہوں مگر
بگڑ گئے تو نظاروں کا حال کیا ہوگا

مذاق دید ہی صہباؔ اگر بدل جائے
تو زندگی کی بہاروں کا حال کیا ہوگا

صہبا اختر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم