MOJ E SUKHAN

سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے

سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے
دوسرا عشق ہوا پہلے کے دوران مجھے

تیرے اندر کی اداسی کے مشابہ ہوں میں
خال و خد سے نہیں آواز سے پہچان مجھے

اجنبی شہر میں اک لقمے کو ترسا ہوا میں
میزباں جسموں نے سمجھا نہیں مہمان مجھے

ایک ہی شکل کے سب چہرے تھے لیکن پھر بھی
ایک چہرے نے تو بے حد کیا حیران مجھے

میں محبت بھی محبت کے عوض دیتا ہوں
پھر بھی ہو جاتا ہے اس کام میں نقصان مجھے

بھولے بسرے کسی نغمے کی سی شاداب آواز
رات کانوں میں پڑی کر گئی سنسان مجھے

جانے کب سونپ دوں مٹی کو یہ مٹی کا قفس
جانے کب دینا پڑے روح کا تاوان مجھے

انجم سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم