MOJ E SUKHAN

سرد ہیں دل آتش روئے نگاراں چاہئے

سرد ہیں دل آتش روئے نگاراں چاہئے
شعلۂ رنگ بہار گل عذاراں چاہئے

منزل عشق و جنوں کے فاصلے ہیں سر بکف
ان کٹھن راہوں میں لطف دست یاراں چاہئے

کٹ رہی ہے اور کٹ چکتی نہیں فصل خزاں
تیز تر اک اور تیغ نو بہاراں چاہئے

آج مے خانہ میں سحر چشم ساقی کے لیے
التفات‌ چشم مست میگساراں چاہئے

اس دل وحشی کی آزادی کا کیا کیجے علاج
اک کمند گیسوئے یزداں شکاراں چاہئے

نغمہ بن جاتا ہے نالہ ان کی بزم ناز میں
ان کو خوش رکھنے کو شور سوگواراں چاہئے

آسمانوں سے برستے ہیں زمیں پر ریگزار
آج پھر سردارؔ رقص‌ برق و باراں چاہئے

علی سردار جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم