MOJ E SUKHAN

سرنگوں سارا جہاں ہے مامتا کے سامنے

سرنگوں سارا جہاں ہے مامتا کے سامنے
بد دعا میں ہے دعا اس کی دعا کے سامنے

میں تمہارے سامنے اس واسطے خاموش ہوں
فیصلہ ہو جائے گا اک دن خدا کے سامنے

عزت و شہرت محبت سے یہ دامن بھر گیا
شکر کے سجدے کروں رب کی عطا کے سامنے

کر چکی ہے اب جہاں آرا تبسمؔ حوصلہ
رکھ دیا ہے اب دیا لا کر ہوا کے سامنے

کس قدر ظالم ہے یہ دنیا تعجب ہے مجھے
بے وفا کہتی ہے مجھ کو بے وفا کے سامنے

ایسا لگتا ہے کہ محفل مسکرانے لگ گئی
آ کے جب وہ بیٹھتا ہے مسکرا کے سامنے

ایک میں ہوں اور اک دھک دھک دھڑکتا دل مرا
غیر کو تکتا ہے وہ مجھ کو بٹھا کے سامنے

یار نظروں سے پرے تھا آئنہ بھی تھا پرے
سج سنور کے آ گئی جان ادا کے سامنے

کیا کہوں کیسے کہوں کس سے کہوں اور کیوں کہوں
سوچتی ہوں چپ رہوں اس ناخدا کے سامنے

آج نظروں سے ملیں نظریں تو وہ کہنے لگا
پھر سے کیوں تم آ گئی ہو مسکرا کے سامنے

پہلے اس نے کیا کہا پھر کیا کہا پھر کیا کہا
میرا تو نے خط رکھا جب دل ربا کے سامنے

ان اندھیروں سے نہ گھبرا تو کہ تیرے واسطے
میں نے اپنا رکھ دیا ہے دل جلا کے سامنے

لفظ بارش کی طرح مجھ پر برستے جائیں پھر
شعر جب کہنے لگوں اس کو بٹھا کے سامنے

جب تلک دنیا میں کاغذ اور قلم موجود ہیں
با وفا لکھتی رہوں گی بے وفا کے سامنے

کیوں ترا پیارا تبسمؔ آج پھیکا پڑ گیا
ہار کیوں مانی ہے تو نے پھر جفا کے سامنے

جہاں آرا تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم