Sir Jhukaoo tu bus Khuda Kay lyee
غزل
سرِ جھکاؤ تو بس خدا کے لئے
ہاتھ اٹھاؤ تو بس دعا کے لئے
مٹ گیا آپکی وفا کے لئے
اب تو آجائیے خُدا کے لئے
کچھ ہماری خطا بتا دیجئے
ہم ہیں تیار ہر سزا کے لئے
ایسے بے دین رہبروں سے بچو
جن کا ایمان ہو دغا کے لئے
سارے قاتل ہیں رہبرِ دُنیا
ان سے اُمّید اور وفا کے لئے
موت پھر سر پہ آ کے لوٹ گئی
پھر وہ ہاتھ آٹھ گئے دعا کے لئے
دل میں ہر دم بُٹوں کی چاہ فراز
اب تو توبہ کرو خُدا کے لئے
سرفراز احمد فراز دہلوی
Sarfaraz Ahmed Faraz Dehlvi