MOJ E SUKHAN

سر بھی بھاری ہے دل بھی بھاری ہے

غزل

سر بھی بھاری ہے دل بھی بھاری ہے
بے قراری سی بے قراری ہے

آسماں پر ستارے ہیں روشن
کیسی قدرت کی دست کاری ہے

پیاس نے آج کر دیا ثابت
ذائقہ آنسوؤں کا کھاری ہے

آپ جس کو نہ سن سکے اب تک
بس وہی داستاں ہماری ہے

رات کے بعد صبح کا آنا
سلسلہ یہ ازل سے جاری ہے

آج کل کے شریف زادوں میں
صاف گوئی نہ انکساری ہے

آپ ہندی زباں پہ شیدا ہیں
ہم کو اردو زبان پیاری ہے

بھیس بدلے ہوئے نہ ہو گوہرؔ
آپ کے در پہ جو بھکاری ہے

گلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم