غزل
سر خوشی میں جو دل مچلتے ہیں
پھر سخنور غزل میں ڈھلتے ہیں
سہل ہوتی نہیں سخن گوئی
حزن ہو تو لہو اگلتے ہیں
اف تمازت یہ دشت غربت کی
لوگ سائے میں رہ کے چلتے ہیں
شہر ظلمت میں خون کے دریا
پاک جسموں سے ہی نکلتے ہیں
ایک بدن دوسرے کی چاہت میں
سرخرو ہو تو دل بہلتے ہیں
مت ہو مایوس شادماں روبی
آس کے کچھ دیے تو جلتے ہیں
روبینہ راجپوت