MOJ E SUKHAN

سر خوشی میں جو دل مچلتے ہیں

غزل

سر خوشی میں جو دل مچلتے ہیں
پھر سخنور غزل میں ڈھلتے ہیں

 سہل ہوتی نہیں سخن گوئی
حزن ہو تو لہو اگلتے ہیں

اف تمازت یہ دشت غربت کی
لوگ سائے میں رہ کے چلتے ہیں

شہر ظلمت میں خون کے دریا
پاک جسموں سے ہی نکلتے ہیں

ایک بدن دوسرے کی چاہت میں
سرخرو ہو تو دل بہلتے ہیں

مت ہو مایوس شادماں روبی
آس کے کچھ دیے تو جلتے ہیں

روبینہ راجپوت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم