MOJ E SUKHAN

سر پہ بھیلا آسماں تھا اور میں

سر پہ بھیلا آسماں تھا اور میں
ڈگمگانے کا سماں تھا اور میں

بے بسی سے دیکھتا تھا ہر طرف
وہ کہ مجھ سے بد گماں تھا اور میں

ہو رہی تھیں پتھروں کی بارشیں
ایک شیشے کا مکاں تھا اور میں

ہر گھڑی لڑنا پڑا تھا موت سے
ہر گھڑی اک امتحاں تھا اور میں

عافیت سر کو بچانے ہی میں تھی
سامنے کوہ گراں تھا اور میں

دیکھ کر آنکھوں میں اس کی کیا کہوں
ایک حسرت کا سماں تھا اور میں

بیٹھ کر روتا تھا اپنی پیاس کو
سامنے دریا رواں تھا اور میں

اک اکیلا کس طرف جاتا بھلا
ساتھ اس کے کل جہاں تھا اور میں

کیسے ٹھکراتا میں راہ زندگی
وقت میر کارواں تھا اور میں

سہیل ثاقب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم