MOJ E SUKHAN

سر چٹخنے کا سبب یاد آیا

سر چٹخنے کا سبب یاد آیا
تیری پاپوش تھی اب یاد آیا

قرض ہم اس کا چکاتے لیکن
"جب وہ رخصت ہواتب یادآیا”

یوں ہی جاپہنچےلگایانہ خضاب
اس نے چاچاکہا تب یاد آیا

گالیاں آپ کے منہ سے سن کر
آپ کانام و نسب یاد آیا

بھوت جیسی تھی وہ صورت عاصی
"دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا”

مرزا عاصی اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم