MOJ E SUKHAN

سزا بغیر عدالت سے میں نہیں آیا

سزا بغیر عدالت سے میں نہیں آیا

کہ باز جرم صداقت سے میں نہیں آیا

۔

فصیل شہر میں پیدا کیا ہے در میں نے

کسی بھی باب رعایت سے میں نہیں آیا

۔

اڑا کے لائی ہے شاید خیال کی خوشبو

تمہاری سمت ضرورت سے میں نہیں آیا

۔

ترے قریب بھی یاد آ رہے ہیں کار جہاں

بہت قلق ہے کہ فرصت سے میں نہیں آیا

۔

گزر گئے یوں ہی دو چار دن اور اس کے بعد

یہی ہوا کہ ندامت سے میں نہیں آیا

۔

ہمیشہ ساتھ رہا ہے سحرؔ میرا سورج

گزر کے وادئ ظلمت سے میں نہیں آیا

سحر انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم