MOJ E SUKHAN

سستے میں ان کو بھولنا اچھا لگا ہے آج

غزل

سستے میں ان کو بھولنا اچھا لگا ہے آج
چائے کا ایک گھونٹ بھی کافی رہا ہے آج

رسی سے جھولتی ہوئی لڑکی نہیں ہے یہ
یہ نا مراد عشق ہے لٹکا ہوا ہے آج

کس نے کہا ہے خیر ہے میں تو نہیں گرا
وہ تو شجر سے آخری پتا گرا ہے آج

جھگڑا ہوں بد گمان سے چیخا ہوں فون پر
یہ ساتواں تھا فون جو توڑا گیا ہے آج

دستک سمجھ کے در پہ تو یوں دوڑ کے نہ جا
کل بھی ہوا کا کام تھا پھر بھی ہوا ہے آج

دریا کو کھینچ لانے دے صحرا کے درمیان
مٹکا غریب زادی کا پیاسا پڑا ہے آج

دل بت کدہ رہا تو تو پہلو نشین تھا
کعبہ بنا تو تیری جگہ پہ خدا ہے آج

راہبؔ زبان پر مری چھالے سے پڑ گئے
دیکھا جو در پہ یار کے تالا پڑا ہے آج

عمران راہب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم