MOJ E SUKHAN

سفر میں زندگی کے ہم انہیں رہبر سمجھتے ہیں

غزل

سفر میں زندگی کے ہم انہیں رہبر سمجھتے ہیں
جو سنگ راہ کو پھولوں ہی کا بستر سمجھتے ہیں

بشر نے ہی نہیں سمجھے رموز گردش پیہم
رموز گردش پیہم مہ و اختر سمجھتے ہیں

الٰہی راز ہستی ایک ایسا راز ہے جس کو
نہ دیوانے سمجھتے ہیں نہ دانشور سمجھتے ہیں

خیالوں سے ہی سچائی کا اندازہ نہیں ہوتا
کہ منظر دیکھنے والے ہی پس منظر سمجھتے ہیں

حقیقت کو سمجھنے میں خودی کا زعم حائل ہے
حقیقت ہم متاع بے خودی پا کر سمجھتے ہیں

بشر نے جنگ کا میداں بنایا ہے انہیں ورنہ
پرندے مندر و مسجد کو اپنا گھر سمجھتے ہیں

جنون عشق کے ماروں کی خوبی ہے یہی گوہرؔ
وہ ہر بیداد گر کو اپنا چارہ گر سمجھتے ہیں

کلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم