MOJ E SUKHAN

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں
ہمارے ساتھ چلو گرد رہ گزر ہم ہیں

لکھی ہیں چہروں پہ جو سرخیاں پڑھو ان کو
خبر ہو عام کہ دنیا سے با خبر ہم ہیں

اکیلا پن ہمیں محسوس کب ہوا اب تک
کہ دشت دشت ہیں لیکن نگر نگر ہم ہیں

گھنیرے سائے نہ ڈھونڈو یہیں پہ دم لو ذرا
کہ جس کی چھاؤں میں ٹھنڈک ہے وہ شجر ہم ہیں

سمندروں سے کہو وہ سمٹ کے آ جائیں
کہ اس جہاں میں اکیلے ہی کوزہ گر ہم ہیں

وہ خوب شخص ہے دیکھا ہے مل کے ہم نے اسے
مگر ہے یہ بھی حقیقت کہ خوب تر ہم ہیں

شبنم شکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم