سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں
ہمارے ساتھ چلو گرد رہ گزر ہم ہیں
لکھی ہیں چہروں پہ جو سرخیاں پڑھو ان کو
خبر ہو عام کہ دنیا سے با خبر ہم ہیں
اکیلا پن ہمیں محسوس کب ہوا اب تک
کہ دشت دشت ہیں لیکن نگر نگر ہم ہیں
گھنیرے سائے نہ ڈھونڈو یہیں پہ دم لو ذرا
کہ جس کی چھاؤں میں ٹھنڈک ہے وہ شجر ہم ہیں
سمندروں سے کہو وہ سمٹ کے آ جائیں
کہ اس جہاں میں اکیلے ہی کوزہ گر ہم ہیں
وہ خوب شخص ہے دیکھا ہے مل کے ہم نے اسے
مگر ہے یہ بھی حقیقت کہ خوب تر ہم ہیں
شبنم شکیل