MOJ E SUKHAN

سفر کے بیچ وہ بولا کہ اپنے گھر جاؤں

غزل

سفر کے بیچ وہ بولا کہ اپنے گھر جاؤں
اندھیری رات میں تنہا میں اب کدھر جاؤں

مجھے بگاڑ دیا ہے مرے ہی لوگوں نے
کوئی خلوص سے چاہے تو میں سنور جاؤں

مری جدائی میں گزری ہے زندگی کیسی
یہ جی میں آئی ہے اس بار پوچھ کر جاؤں

بتا تو کفر کا فتویٰ لگائے گا مجھ پر
خدا میں مانوں تجھے اور پھر مکر جاؤں

تو سبز جھیل کے پانی میں ڈھونڈتا ہی رہے
میں چاند اوک میں بھر لوں کمال کر جاؤں

بلا کا خوف تھمایا ہے آئنوں نے مجھے
میں عکس اپنا جو دیکھوں تو جیسے ڈر جاؤں

سدرہ سحر عمران

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم