MOJ E SUKHAN

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں
کوچ کر جائیں کب کچھ بھروسا نہیں

ہیں فصیلوں سے الجھے ہوئے سرپھرے
دور تک کوئی شہر تمنا نہیں

شام سے ہی گھروں میں پڑیں کنڈیاں
چاند اس شہر میں کیوں نکلتا نہیں

آگ لگنے کی خبریں تو پہنچیں مگر
کوئی حیرت نہیں کوئی چونکا نہیں

چھین کر مجھ سے لے جائے میرا بدن
معتبر اتنا کوئی اندھیرا نہیں

کیا یہی ملتے رہنے کا انعام ہے
ایک کھڑکی نہیں اک جھروکا نہیں

ایک منظر میں لپٹے بدن کے سوا
سرد راتوں میں کچھ اور دکھتا نہیں

تیز ہو جائیں اس کا تو امکان ہے
آندھیاں اب رکیں ایسا لگتا نہیں

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم