MOJ E SUKHAN

سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے

غزل

سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے
سلیقے سے تو پیاسا بولتا ہے

یہاں تو اس کا پیسہ بولتا ہے
وہاں دیکھیں گے وہ کیا بولتا ہے

نگاہیں کرتی رہ جاتی ہیں ہجے
وہ جب چہرے سے املا بولتا ہے

میں چپ رہتا ہوں اتنا بول کر بھی
وہ چپ رہ کر بھی کتنا بولتا ہے

تمھارے ساتھ اڑانیں بولتی ہیں
ہمارے ساتھ پنجرہ بولتا ہے

یہ محفل ختم ہو جائے تو دیکھوں
بنا مائک کے وہ کیا بولتا ہے

کسی کے لب نہیں ہیں اس کے جیسے
وہ ہر محفل میں تنہا بولتا ہے

مری حد ادب تائید تک ہے
خدا جانے وہ کیا کیا بولتا ہے

فہمی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم