MOJ E SUKHAN

سمٹ سمٹ سی گئی تھی زمیں کدھر جاتا

سمٹ سمٹ سی گئی تھی زمیں کدھر جاتا
میں اس کو بھولتا جاتا ہوں ورنہ مر جاتا

میں اپنی راکھ کریدوں تو تیری یاد آئے
نہ آئی تیری صدا ورنہ میں بکھر جاتا

تری خوشی نے مرا حوصلہ نہیں دیکھا
ارے میں اپنی محبت سے بھی مکر جاتا

کل اس کے ساتھ ہی سب راستے روانہ ہوئے
میں آج گھر سے نکلتا تو کس کے گھر جاتا

میں کب سے ہاتھ میں کاسہ لیے کھڑا ہوں شاذؔ
اگر یہ زخم ہی ہوتا تو کب کا بھر جاتا

شاذ تمکنت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم