MOJ E SUKHAN

سنا کے غم کا ترانہ سنو گیا ہے وہ

غزل

سنا کے غم کا ترانہ سنو گیا ہے وہ
سروں کے اشک سے دنیا کو دھو گیا ہے وہ

ہے اس کے حسن کے دریا میں ایسی طغیانی
ہمارے ہوش کی بستی ڈبو گیا ہے وہ

ہر اک قدم پہ ہے ٹھوکر میں زندگی اس کی
اندھیرے جسم کے صحرا میں کھو گیا ہے وہ

تھکا تھکا سا بدن ہے مرے تخیل کا
شکستہ خواب کے بستر پہ سو گیا ہے وہ

دیار انجم و خورشید سے وہ آیا تھا
بگولہ بن کے خلاؤں میں کھو گیا ہے وہ

تم اشتعال کے شعلوں کو اور بھڑکاؤ
لہو کو صبر کے پانی سے دھو گیا ہے وہ

نظارہ دیکھنے آیا تھا جو بہاروں کا
بدن کو اپنے لہو سے بھگو گیا ہے وہ

عبدالمتین جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم