MOJ E SUKHAN

سنورنے اور بگڑنے میں بتا دی زندگی میں نے

سنورنے اور بگڑنے میں بتا دی زندگی میں نے
کبھی کی بندگی میں نے کبھی کی عاشقی میں نے

پھر اس کے بعد شہرِ دل کا موسم ہی نہیں نکھرا
مزاجِ یار میں دیکھی تھی اک دن بے رخی میں نے

نہ اب وہ جام ہے ساقی نہ کوئی زیست کا ساماں
خمارِ عشق میں چھوڑی تھی اک دن مے کشی میں نے

کبھی میں ان کی آنکھوں میں ابھرتا چاند تھا یارو
اور اب ان کی نگاہوں میں ہے کھو دی دلکشی میں نے

لبِ خاموش پر رقصاں بلا کی اک خطابت تھی
لہو کے ساتھ رگ رگ میں سنی تھی سنسنی میں نے

مراد ؔاک چاند میرے گھر میں پہلی بار اترا تھا
پھر اس کے بعدتو گھر میں بسا لی چاندنی میں نے

شفیق مراد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم