"سنو اے باوفا لڑکے !”
سنو اے باوفا لڑکے! تمہاری بولتی آنکھیں
تمہاری دلربا باتیں تمہارا —- پرکشش چہرہ
کہ جس پہ سوچ کا پہرہ
تمہارا سوچنا ہر پل تمہارے بے ریا جذبے
مجھے باور کراتے ہیں یقیں مجھ کو دلاتے ہیں
کہ تم کو پیار ہے مجھ سے کہ میں ہوں خاص جیون میں _____
تمہارے آس آنگن میں مجھے احساس ہے اِس کا
سنہرے خواب پلکوں پر سجاۓ تم جو بیٹھے ہو
ملن کی جوت آنکھوں میں جلاۓ تم جو بیٹھے ہو
وہ سب میری ہی خاطر ہیں سنو اے با وفا لڑکے!
تمہارے اِن ارادوں کا میں پالن کر نہیں سکتی
تمہاری چاہت و الفت کا میں دم بھر نہیں سکتی
میں کچھ بھی کر نہیں سکتی مری مجبوریاں سمجھو
کہ میں قیدی ہوں رسموں کی،رواجوں کی
کہ مجھ کو بھینٹ چڑھنا ہے سماجوں کی
مجھے قسمت نے جا کے اور کی دہلیز پہ پھینکا
تمہارا پیار ملنے کی نہیں تھی ہاتھ میں ریکھا
سنو اے با وفا لڑکے!
تمہیں میں کہہ نہیں سکتی
تمہارا دیکھنا چاہت سے مجھ کو کتنا بھاتا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے کیسے دل پگھلتا ہے
رگوں میں آگ جلتی ہے ، مرا انگ انگ سلگتا ہے
سنو اے با وفا لڑکے!
میرا یہ مشورہ مانو مجھے اِتنا نہ چاہو تم
کہ چاہت بے بسی کی انتہا پہ آ کے رک جاۓ
تمہارا عکسِ سوچوں تو میری ویران آنکھوں میں
چمک آۓ محبت نام سے آنکھوں کا پیمانہ چھلک جاۓ
ذرا دم کو پلٹ کے دیکھنا چاہوں تو لگتا ہے
ہماری ذات کے اندر سبھی منظر ہیں حیراں سے —
ہمارے دل ہیں ویراں سے
سنو اے با وفا لڑکے !
تمہارے دم سے جیون تھا
تمہارے دم سے جیون ہے!!!
تمہارے دم سے الفت تھی
تمہارے دم سے الفت ہے
بس اتنا یاد رکھ لینا
مجھے تم سے محبت تھی
مجھے تم سے محبت ہے
تاجور شکیل