MOJ E SUKHAN

سنو ہم عہد کرتے ہیں

سنو ہم عہد کرتے ہیں
خدا سے تم کو مانگا ہے
سدا تم کو ہی چاہیں گے
لُٹا کر دو جہاں اپنے
تمھیں اپنا بنائیں گے
یہ ہم نے سوچ رکھا ہے
بھلے دشمن زمانہ ہو
جو الفت آزمانا ہو
تو بس اک بار کہہ دینا
ہتھیلی پر لیے جیون
یہ ہم اقرار کر لیں گے
کہ اب خوشیاں ملیں یا غم
تُمھارے پیار میں ہم دَم
کچھ ایسے کھو گئے ہیں ہم
تمھارے ہو گئے ہیں ہم

شہباز نیّر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم