MOJ E SUKHAN

سنگ دل یوں بھی محبت کا صلہ دیتے ہیں

غزل

سنگ دل یوں بھی محبت کا صلہ دیتے ہیں
بھول کر عہد وفا رنج وفا دیتے ہیں

اپنے دیوانے کو کیا خوب سزا دیتے ہیں
دل کے ہر گوشے میں طوفان اٹھا دیتے ہیں

مدتیں گزریں ادھر سے کوئی گزرا ہی نہیں
روز ہم شمع جلاتے ہیں بجھا دیتے ہیں

چال میں رقص نسیم سحری کے انداز
بات کرتے ہیں تو غنچوں کو کھلا دیتے ہیں

ایک ہی کام محبت میں ہے دیوانوں کا
تم سلامت رہو بس یہ ہی صدا دیتے ہیں

موت اس کی ہے حیات اس کی ہے دنیا اس کی
جس کو جینے کا سلیقہ وہ سکھا دیتے ہیں

ان سے اے دردؔ تغافل کی شکایت کیا ہے
جو ہر اک بات کا افسانہ بنا دیتے ہیں

عبدالمجید درد بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم