MOJ E SUKHAN

سنگ کو چھوڑ کے تو نے کبھی سوچا ہی نہیں

غزل

سنگ کو چھوڑ کے تو نے کبھی سوچا ہی نہیں
اپنی ہستی میں خدا کو کبھی ڈھونڈا ہی نہیں

الجھا الجھا سا ہے کیوں اپنے بھرم میں ہر دم
تو نے خود اپنے گریبان میں جھانکا ہی نہیں

تیرے ہونے سے کرم اس کا نظر آتا ہے
تجھ سے بڑھ کر کوئی شاہد وہ دکھاتا ہی نہیں

اس کے بندوں میں اسے ڈھونڈ اگر ہے خواہش
وہ صنم خانوں کے در پر کبھی دکھتا ہی نہیں

لمحہ لمحہ وہ سمایا ہے رگ و پے میں صباؔ
حد سے آگے کبھی احساس نے چھوڑا ہی نہیں

ببلس ھور صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم