MOJ E SUKHAN

سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں

غزل

سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں
اداسیوں میں بھی خود کو سنوار لیتی ہوں

مرے وجود کے اندر ہے اک قدیم مکان
جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں

کبھی کبھی مجھے خود پر یقیں نہیں ہوتا
کبھی کبھی میں خدا کو پکار لیتی ہوں

جنم جنم کی تھکاوٹ ہے میرے سینے میں
جسے میں اپنے سخن میں اتار لیتی ہوں

میں اب بھی یاد تو کرتی ہوں عاصمہ اس کو
اسی کا غم ہے جسے میں سہار لیتی ہوں

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم