MOJ E SUKHAN

سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گا

سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گا
پیار نادان کو مت دے کہ یہ مر جائے گا

روش عام سے ہشیار کہ پچھتائے گا
وقت کو چھوڑ یہ پانی ہے گزر جائے گا

سچ کوئی فن تو نہیں ہے جو سکھایا جائے
جھوٹ سے کام لے سچ بولنا آ جائے گا

دو پہر حال غنیمت ہیں اکیلے پن سے
ساتھ مت چھوڑ کہ آنکھوں میں بکھر جائے گا

بحر ظلمات پسینہ ہے مری آنکھوں کا
ضد نہ کر کام یہ آنسو کا بھی کر جائے گا

ان لہو رنگ فضاؤں پہ نہ جا بات سمجھ
گھر کے آسیب سے بچ وقت بدل جائے گا

میری غزلیں ہیں محبت کے صحیفے انجمؔ
پڑھنے والوں کو تلاوت کا مزا آئے گا

انجم فوقی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم