MOJ E SUKHAN

سوال پوچھے ہیں شب نے جواب لے آؤ

غزل

سوال پوچھے ہیں شب نے جواب لے آؤ
نئی سحر کے لئے آفتاب لے آؤ

نہ رات ہے نہ خیالات شب نہ خواب سحر
جو دن کی جوت جگا دیں وہ خواب لے آؤ

برا نہیں ہے جو لکھ جائیں اب بھی چند ورق
جو آج تک ہے ادھوری کتاب لے آؤ

نقاب الٹتی ہے چہرے سے روز تازہ سحر
نگاہ میں بھی کوئی انقلاب لے آؤ

بہار آئے گی گلشن میں سیر گل ہوگی
نظر میں فکر میں دل میں شباب لے آؤ

سعید الظفر چغتائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم