MOJ E SUKHAN

سوال یہ ہے سبب کس سے قتل کا پوچھیں

غزل

سوال یہ ہے سبب کس سے قتل کا پوچھیں
کہ جس نے قتل کیا وہ ہی بے زباں نکلا

امیر شہر تو لفظوں کے جال بنتا ہے
مگر جو سچ تھا وہ فقروں کے درمیاں نکلا

ہمارے بعد بھی کیا زیب دار ہوگا کوئی
یہی سوال مرا زیب داستاں نکلا

ہم اپنی عقل کو الزام دیں کہ قسمت کو
ہمارے دور میں رہزن بھی پاسباں نکلا

جبیں جھکی تو زمیں اٹھ کے عاجزی سے ملی
جو سر اٹھا تو بہت دور آسماں نکلا

رہے ہیں ہم تو کرامتؔ گئے دنوں کے نقیب
کہ ہم سے عہد نیا سخت بد گماں نکلا

کرامت غوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم